📍 رحمت کارڈ کیا ہے؟ (بیوہ سہارا کارڈ نیا ورژن)
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرقیادت رحمت کارڈ دراصل بیوگان اور یتیم بچوں کی کفالت کا ایک ڈیجیٹل، شفاف اور باوقار نظام ہے۔ اسے پرانے "بیوہ سہارا کارڈ" کی اپ گریڈڈ فارم کہا جا سکتا ہے [citation:5]۔ اس اسکیم میں خیرات کا تصور نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے بیواؤں کو ان کا قانونی حق دہلیز پر پہنچانے کا عزم شامل ہے [citation:5][citation:8]۔
بیوہ خاتون (بنیادی گرانٹ)
ایک لاکھ روپے تک براہ راست بینک اکاؤنٹ میں
یتیم بچہ (فی کس)
فی یتیم بچہ اضافی 25 ہزار (زیادہ سے زیادہ 2 بچے) [citation:5]
زیادہ سے زیادہ فی خاندان
ایک بیوہ + دو یتیم بچوں کی صورت میں ڈیڑھ لاکھ
✨ رحمت کارڈ کی خصوصی سہولیات
- ✔️ ماہانہ امداد نہیں، بلکہ معاشی خودمختاری: دی گئی رقم سے بیوہ خواتین چھوٹا کاروبار یا روزگار شروع کر سکیں گی۔
- ✔️ مفت علاج: قائد اعظم سوشل سیکیورٹی ہسپتال اور مخصوص سرکاری ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات۔
- ✔️ تعلیمی وظائف: یتیم بچوں کی تعلیم کے لیے الگ امداد (مستقبل قریب میں شامل)۔
- ✔️ تذلیل کا خاتمہ: کوئی لائنیں نہیں، کوئی ایجنٹ نہیں۔ بائیو میٹرک تصدیق کے بعد رقم گھر بیٹھے منتقل [citation:5]۔
👈 کون مستحق ہے؟ (اہلیت کے شرائط)
- 🔹 رہائش: درخواست گزار کا تعلق پنجاب کے کسی بھی ضلع سے ہو اور شناختی کارڈ پر پنجاب کا پتہ درج ہو [citation:6]۔
- 🔹 بیوہ خواتین: نادرا کے ریکارڈ میں بیوہ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوں۔ شوہر کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ ضروری ہے [citation:1]۔
- 🔹 یتیم بچے: وہ بچے جن کے والد یا والدین کا انتقال ہو چکا ہو (18 سال تک)۔ بچوں کے ب فارم لازمی ہیں [citation:4]۔
- 🔹 آمدنی کی حد: خاندان کی ماہانہ آمدنی 30 ہزار سے کم ہو (مستقبل میں PMT Score چیک ہوگا)۔
- 🔹 غیر مستفید: جو خاندان پہلے سے کسی بڑے سرکاری پنشن یا وظیفے کا حصہ نہ ہوں۔
📋 ضروری دستاویزات (تیار رکھیں)
| دستاویز | تفصیل |
|---|---|
| قومی شناختی کارڈ (CNIC) | بیوہ خاتون کا نادرا سے تصدیق شدہ (موبائل نمبر رجسٹرڈ ہو) |
| شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ | نادرا کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ لازمی ہے [citation:1] |
| بچوں کا ب فارم | یتیم بچوں کے شناختی نمبر (ب فارم)۔ اگر زیرکفالت ہیں تو سرپرست کا کارڈ |
| رہائش کا ثبوت | ڈومیسائل یا بجلی/گیس کا بل (پنجاب میں رہائش ظاہر ہو) |
| موبائل نمبر | درخواست گزار کے نام پر رجسٹرڈ سِم (SMS نوٹیفکیشن کے لیے) |
📌 درخواست کیسے دیں؟ (4 آسان طریقے)
- آن لائن ویب پورٹل (مستند لنک): پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (PSPA) کی آفیشل ویب سائٹ pspa.punjab.gov.pk پر جائیں اور Rehmat Card 2026 سیکشن میں اپلائی کریں۔ براہ راست لنک نیچے دیا گیا ہے۔
- موبائل ایپلیکیشن: "Punjab Rehmat Card" ایپ پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں (سرکاری ایپ کا نام جاری ہوتے ہی اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا)۔ اپنا CNIC ڈال کر فارم بھریں اور دستاویزات اسکین اپ لوڈ کریں [citation:4][citation:6]۔
- پنجاب خدمت مراکز / زکوٰۃ دفاتر: قریبی پنجاب سروس سینٹر یا ضلع کے سوشل ویلفیئر / زکوٰۃ دفتر میں جائیں۔ وہاں مفت رجسٹریشن کروائی جا سکتی ہے [citation:1]۔
- ہیلپ لائن 8171: اپنا CNIC نمبر 8171 پر بھیج کر اہلیت سے متعلق معلومات حاصل کریں۔ مستقبل قریب میں اسی نمبر سے رجسٹریشن بھی ممکن ہوگی۔
⚠️ اگر آپ پہلے سے بیوہ سہارا کارڈ رکھتی ہیں تو رحمت کارڈ کے لیے نئی رجسٹریشن ضروری ہے۔ پرانے رجسٹرڈ افراد کو ترجیح مل سکتی ہے لیکن نادرا سے دوبارہ تصدیق ہوگی [citation:5]۔
🔗 مستند سرکاری لنکس (براہ راست درخواست کے لیے)
※ مذکورہ بالا تمام لنکس حکومتی ہیں۔ اپنی معلومات درج کرتے وقت احتیاط برتیں۔ کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ پر پیسے ادا نہ کریں۔
🚀 ابھی درخواست شروع کریں (مرحلہ وار)
نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کرکے آفیشل رجسٹریشن فارم تک جائیں۔
📌 فون نمبر پر ایس ایم ایس: 8171 پر اپنا CNIC بھیجیں۔ جواب میں آپ کو رجسٹریشن سینٹر کا پتہ ملے گا۔
📢 تازہ ترین پیشرفت (مارچ 2026)
ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعلیٰ مریم نواز نے رحمت کارڈ کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے مرحلے میں 50 ہزار سے زائد خاندان شامل کیے جائیں گے، اور رجسٹریشن کا آغاز عید الفطر (2026) کے بعد سے متوقع ہے [citation:8]۔ بینک آف پنجاب اور پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کارڈ کی پرنٹنگ اور ڈیجیٹل والیٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں [citation:9]۔
📎 مستند ذرائع: یہ تحریر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ، PSPA اور نجی خبر رساں اداروں [citation:1][citation:5][citation:8] کی تفصیلات کو یکجا کرتی ہے۔ تصدیق کے لیے براہ کرم سرکاری ہیلپ لائن سے رجوع کریں۔
❓ اکثر پوچھے گئے سوالات
بیوہ سہارا کارڈ پرانی اسکیم تھی جس میں عام طور پر ماہانہ کم رقم دی جاتی تھی اور کاغذی کارروائی زیادہ تھی۔ رحمت کارڈ میں ایک بار 1 لاکھ تک امداد، نیز یتیم بچوں کے لیے 25 ہزار فی بچہ دیا جا رہا ہے۔ یہ مکمل ڈیجیٹل ہے [citation:5]۔
جی ہاں! رحمت کارڈ BISP سے الگ پروگرام ہے۔ دونوں اسکیموں سے استفادہ ممکن ہے بشرطیکہ آپ اہلیت کے معیار پر پورا اتریں [citation:5]۔
بالکل نہیں۔ رحمت کارڈ کی درخواست اور کارڈ جاری کرنے کی کوئی فیس نہیں ہے۔ اگر کوئی ایجنٹ پیسے مانگے تو فوری 0800-724628 پر شکایت کریں [citation:6]۔
جی ہاں، آپ کسی بھی پنجاب خدمت مرکز (PSC) یا سوشل ویلفیئر آفس جا کر مفت رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ اپنا شناختی کارڈ اور دستاویزات ساتھ لے جائیں [citation:1]۔
رجسٹریشن اور بائیو میٹرک تصدیق کے بعد رقم براہ راست آپ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔ اگر بینک اکاؤنٹ نہیں ہے تو رحمت کارڈ ڈیبٹ کارڈ کی صورت میں آپ کو ڈاک خانے یا بینک برانچ سے ملے گا۔
یہ پروگرام وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا بیوگان اور یتیم بچوں سے وفا کا عہد ہے۔ اگر آپ مستحق ہیں تو جلد از جلد درخواست دیں اور اس ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بنیں۔